تحریر: جلیلہ حیدر
تعارف
کسی بھی سماج میں جب کوئی نئی تخلیق، نیا کام یا نیا نظریہ جب معرض وجود میں آتا ہے، تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی سب سے زیادہ مخالفت سماج کے اوپری پرتوں سے شروع ہو کر نچلے طبقوں تک اُتاری جاتی ہے۔ اِسی لئے ہم تاریخی طور پر دیکھتے ہیں کہ گلیلیو نے جب کلیسا کے بنیادی نظریہ کو چیلنج کیا تو اُس پر ریاست میں بدعت پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ۔ حکم یہی ہوا کہ اُسے سزا ئے موت ملے، اور آخر کار گلیلیو کو اپنے اس نظریے پر کلیساء سے معافی مانگنی پڑی کہ’’زمین سورج کے گرد گھومتی ہےــ کیونکہ کلیساء کے قدامت پرست نظریے کے رو سے ’’سورج زمین کے گرد گھومتا ہے‘‘۔ مگر گلیلیو کے پندرہویں صدی کے نظریہ نے آج سائنسی لحاظ سے یہ ثابت کر دیا کہ سزا، جبر اور ظلم پر مبنی قدامت پرستانہ نظریات بھی سچ کو جھٹلا نہیں سکتے۔
دنیا بھر میں بشمول پاکستان کے گزشتہ تین سالوں سے ہر سال عالمی یومِ محنت کش خواتین کو ’عورت آزادی مارچ/عورت مارچ‘، عورت کانفرنسوں کی شکل میں ایک منظم تحریک کے طور پر چترال سے لیکر تربت تک منایا جاتا ہے۔ اس مارچ نے جہاں پاکستان کے استحصال زدہ، محنت کش، ترقی پسند، سیاسی، محکوم اقوام اور ہنرمند خواتین کی جدوجہد کو منظم طریقے سے جوڑا ہے، وہیں پر اس کی مخالفت میں اُبھرنے والی آوازیں بھی طاقت کے ساتھ سامنے آئیں، جس میں ریاست، دائیں بازو ں کی جماعتیں، میڈیا اور حتیٰ ٰکہ مذہبی جماعتوں کی خواتین کی مخالفت بھی نظر آئی۔ میڈیا پروپیگنڈہ سے لے کر پُرتشدد حربوں کو بھی آزمایا گیا تا کہ عوام کو عورت آزادی مارچ کی منفی شکل دیکھائی جائے اور عورت کے بنیادی حقوق سے لے کر اُس کی آزادی کے سوال کو متنازعہ بنایا جائے، جس پر ہم اس آرٹیکل میں مختصر روشنی بھی ڈالیں گے۔
کارل مارکس نے کہا تھا کہا کہ ”اگر آپ نے کسی سماج کی حقیقی حالت دیکھنی ہے تو اس معاشرے کا عمومی رویہ وہاں کی خواتین کی حالت سے با آسانی اندازہ لگا سکتے ہیں“ (مارکس:1844)۔ دنیا بھر میں بشمول پاکستان کے، ہم نے دیکھا ہے کہ عورت کسی نہ کسی طرح سے استحصال کا شکار ہے چاہے وہ ترقی یافتہ ممالک کے نام نہاد آزادی اور برابری کے نام پر انکا جنسی استحصال ہو، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے برانڈز کے مارکیٹنگ کے لئے اس کے جسم کا استعمال ہو، یا پھر چاہے ماں اور مامتا کی آزادی کا سوال جو آج بھی وہی ہے، جہاں وہ ماضی میں کھڑی تھی، صرف اِس استحصال کی شکل بدل گئی ہے۔ وہیں پر پاکستان جیسے مُلک جہاں پر ایک طرف جاگیرداری اور سرمایہ داری نے جہاں عام آدمی کی زندگی اور سوچ کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے وہیں پر مذہبی جنونیت اور قدامت پرستی نے بھی شعوری طور پر لوگوں کے فکر کو ماؤف کیا ہوا ہے۔ اور یہی وہ تمام قوتیں ہیں جو ریاست، میڈیا اور مولوی کی شکل میں متحرک ہیں ۔
جب بھی عورتوں کی منظم تحریکیں اور آوازیں اُٹھتی ہیں، تو یہ ان آوازوں کو خاموش کرنے کے لئے میڈیا کے ذریعے منظم طور پر چند پوسٹروں کو لیکر اِن تحریکوں کے خلاف رائے عامہ کو تشکیل دیتے ہیں۔ ان مارچوں میں بہت سارے پوسٹروں، نعروں، اِعلامیوں، اور تقریروں کے ذریعے عورت کی زبوں حالی اور زیرِ دست حیثیت سے جُڑے کئی سوالات اُٹھائے جاتے ہیں، جیسے کہ: اس کی پسند کی شادی کا سوال ہو، جائیداد کی وراثت کا حق، تعلیم و صحت، خوراک اور غربت کا مسلہ، غیرت کے نام پر قتل ، اور مار پیٹ، جنسی ہراسانی اور ریپ، تیزاب گردی، کم عمری کی شادیاں، برابری کی بنیاد پر اجرت نہ ملنا، ریاست کے جانب سے ممتا کے محنت کو نظر انداز کرنا، جنگ زدہ علاقوں کی خواتین کا سوال، جبری گمشدہ افراد کے خاندانوں کی خواتین کے ازدواجی حیثیت کا سوال۔ اس سب کچھ کو نظر انداز کر کے، صرف پوسٹروں پر بات آ جاتی ہے، اور وہ بھی اِن پوسٹروں کے پیچھے چھپے دُکھ اور اذیت، اور کہانیوں کو سمجھنے کے بجائے مخصوص گروہوں کے جانب سے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، جس میں چند ایک مندرجہ ذیل۔
لفظ ”عورت آزادی“ کی مخالفت کیوں؟
ہم نے دیکھا کہ جہاں عوامی سطح پر عورت آزدی مارچ اور عورت مارچ کو پذیرائی ملی، وہاں پر ریاستی سطح پر سرکاری صحافیوں، دانشوروں اور مولیوں کے ذریعے اس مارچ کے آغاز سے ایک مہینہ پہلے ہی موثر منفی پروپیگنڈہ منظم طریقے سے چلایا گیا، جس میں ایسے مارچوں کے انعقاد سے سماج میں فحاشی کے پھیلاؤ کو جواز بنایا گیا جو کہ اُوپری سطح پر عوام کے ذہن اور رائے سازی کے لئے ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
عوام میں یہ بات بھی پھیلائی گئی کہ یہ مارچ دراصل یہودی اور امریکی سازش ہے اور اِن کو وہاں سے فنڈنگ ملتی ہے جو کہ اسلامی اقدار کے منافی ہے۔ مگر کیا یہ مخالفت خواتین کے مارچ سے ہے یا اِس کے پس پردہ کچھ اور محرکات ہیں؟ اگر دیکھا جائے تو کھبی بھی این جی اوز، یو این او، اور سرکاری سطح پر صنفی برابری کے حوالے سے منعقد کئے گئے کسی بھی پروگرام اور پروجیکٹس پر کھبی بھی کوئی خاص مخالفت سامنے نہیں آئی (حالانکہ انکی فنڈنگ بھی ویسٹ سے ہی آتی ہے) بلکہ آٹھ مارچ کے دن سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں، اور یو این بڑے بڑے ہوٹلوں میں پروگرامز منعقد کرتے ہیں۔ مگر عورت آزادی مارچ/عورت مارچ کی ایک خود رو مزاحمتی تحریک کو روکنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈوں کا استعمال اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس تحریک میں وہ قوت اور آواز ہے جس نے ہزاروں سال کے فرسودہ پدر شاہانہ جبر کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اس کی خاص وجہ خواتین کا اِن تحریکوں کے ذریعے نہ صرف صنفی اور جنسی جبر کا خاتمہ کرنا ہے بلکہ طبقاتی اور قومی سوال کو بھی اپنا بنیادی اساس بنانا ہے۔
پاکستان میں صنفی تحریک تب تک قابل قبول ہے تا وقتکہ یہ سرمایہ داری، جاگیرداری، قومی جبر،جنگ اور مذہبی انتہا پسندی کو ایک دوسرے سے مربوط نہیں سمجھے۔ اس تحریک کی مخالفت تب ہوئی جب عورت آزادی مارچ سے جُڑی خواتین نے ملک بھر میں اُبھرنے والی قومی تحریکوں کا بھی کھل کر ساتھ دیا، جس میں پشتون تحفظ موومنٹ سے لیکر بلوچستان میں ہونے والی فوجی آپریشنوں اور جبری گمشدہ افراد کے سوال کو بھی ریاست کے پروان کردہ جبر اور استحصال کی ایک وجہ قرار دیا۔ جس کا نتیجہ آخری تجزیہ میں، اس عورت کو بھگتنا پڑتا ہے جو کہ خود اس کا فریق نہیں مگر اس کے متاثرین میں سے بھی ہے۔ اور یہی وہ پس منظر ہے، جس میں عورت کی جبر و استحصال سے آزادی کو بے حیائی کے معنی میں منفی پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اور مخالف ”مارچ“ بھی کروائے گئے۔
ماضی میں بھی ویمن ایکشن فورم نے ضیائی رجیم اور اسکے بنیاد پرستانہ بیانیہ کی شدید مزاحمت کی تھی مگر وہ اس کا دائرہ کار ریاستی سطح پر عورت مخالف قوانین کے نفاز اور جمہوریت کے بحالی تک محدود تھا۔ جبکہ حالیہ عورت آزادی مارچ سے جُڑی تنظیمیں اب دراصل صنفی اور ریاستی جبر سے آگے بڑھ کر اب قومی جبر، طبقاتی جبر، اور سامراجی جنگ کو بھی ایک ہی نقطہ نطر سے دیکھتیں ہیں۔ اسلئے ملکی سطح پر ملک کے پچاس فیصد آبادی کا ایک ہی پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونا اور ان تمام سوالات کا نہ صرف جواب ڈھونڈنا بذات خود ایک مزاحمت کی شکل ہے، جس سے ریاست کا جو بنیادی بیانیہ جو کہ تشدد، جبر اور استحصال پر مبنی ہے، کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے تنخواہ خور صحافیوں اور دانشوروں کے ذریعے اس مارچ کو ناکام بنانے کے لئے مسلسل پروگرامز کر رہے تھے۔
ان پروگراموں میں اپنے جبر کی پردہ پوشی کرنے کے لئے اسے مذہبی رنگ دے کر علماء کرام کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔ بجائے عورت پر ہونے والے ظلم، قتل، تیزاب گردی، دختر کشی، غیرت کے نام پر قتل، خوراک کی کمی کے شکار خواتین کا زچگی کی دوران صحت کی بنیادی سہولیات نہ ملنے پر اموات، ریپ، کام کی جگہ ہراسانی، معذور بچیوں کے فطری خواہشوں کو دبانے کے لئے انکا صنفی جنیاتی تنسیخ، جبری گمشدہ افراد کے کیمپوں میں بیٹھی ماؤں اور بیٹیوں کے نہ ختم ہونے والے انتظار پر بحث کے۔ اور یہ کہ آیا یہ مسائل ہمارے روایات، مذہبی اقدار اور انسانیت کے منافی ہیں یا نہیں، اُلٹا اس بات کو منتخب طریقے سے موضع بحث بنایا گیا کہ خاتون کیوں کہتی ہے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ یا پھر ’’اپنا کھانا گرم کرو‘‘ کو ایشو بنایا گیا۔ ان چند منتخب پوسٹروں کے گرد منظم منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ملکی اور عوامی سطح پر اس تحریک کے روح کو مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔
بات اگر پروپیگینڈے تک محدود ہوتی تو بھی ایک بات تھی، مگر2020 ء کے مارچ کو روکنے کے لئے منظم عدالتی طریقہ کار کا بھی استعمال کیا گیا۔ جس میں لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں مارچ شروع ہونے سے پہلے پٹیشن دائر کی گئی تھیں کہ اس سال مارچ پر پابندی لگائی جائے جس سے معاشرے میں بے حیائی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ مگر خوش قسمتی سے عدالت نے یہ عدالتوں نے یہ درخواستیں یہ کہہ کر خارج کر دیں کہ’’پرامن جلسہ جلوس پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے‘‘۔
اسی طرح ہم نے دیکھا کہ اِسلام آباد میں مارچ کے شرکاء کو پہلے ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے جانب سے مارچ کرنے کی اجازت نہیں ملی، مگر کھٹن شرائط کے بنا ء پر اجازت تو مل گئی مگر عورت آزادی مارچ کے ساتھ ہی مسلح اور غیر مسلح مذہبی جماعتوں اور گروہوں کے لوگو کو بھی اُسی دن بغیر کسی روک ٹوک کے جلسہ کرنے اور “حیا مارچ” کی اجازت دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں عورت آزادی مارچ ہونے کے چند منٹ بعد ہی مشتعل گروہ نے مارچ کرنے والوں پر اینٹوں اور پتھروں سے منظم حملہ کیا جس میں کئی فیمنسٹ اور سیاسی خواتین رہنما جس میں ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ (ڈبلیو.ڈی.ایف) کی مرکزی صدر عصمت رضا شاہجہان بھی شدید زخمی ہوئیں۔ اس حملے سے تاثر بھی یہی مل رہا تھا کہ حملہ کا اصل ہدف عصمت شاہجہان ہی تھیں جو کہ نہ صرف عورت کے سوال کو سیاسی سوال کے طور پر دیکھتی ہیں، بلکہ قومی اور طبقاتی سوال کو بھی اس سوال سے جوڑتی ہیں۔ اِسی نکتہ نظر کی مثال محترمہ کے پشتون تحفظ موومنٹ اور عوامی ورکرز پارٹی کے سنئیر کارکن کے طور پر بھی ہمیں نظر آتی ہے۔
اِسی طرح، مارچ سے پہلے ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ (بلوچستان) کی صوبائی صدر، جلیلہ حیدر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا اور بعد میں انہیں لاہور ایئر رپورٹ پر اُن کی گرفتاری کا جواز جبری گمشدہ افراد کے خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا تھا۔ ڈبلیو ڈی ایف (پختونخوا) کی گلالئی اسماعیل اور نرگس افشین خٹک پر ڈبلیو.ڈی.ایف کا پی.ٹی.ایم کے ساتھ کام کرنے پر غداری کے الزامات لگانا، بلوچستان اور پختونخوا میں ڈبلیو.ڈی.ایف کی رہنماؤں کو مسلسل دھمکیاں بھی اس مارچ اور ترقی پسند فیمنسٹ قوتوں کو سپوتاز کرنے کی ایک کڑی تھی۔
بلوچستان میں عورت آزادی مارچ سے پہلے ہی راتوں رات مخصوص لوگوں کی سرپرستی میں ایک اور خواتین گروپ کو متحرک کرنا، جن کا اصل مسؑلہ لفظ ”آزادی“ اور پھر جُڑنے والی تمام تنظیموں کے شناخت، مسنگ پرسنز کے فیمیلیز کے ساتھ اظہار یکجہتی سے ابھرنے والے وہ مسائل تھے جس نے اس سال بلوچستان میں بہ نسبت گزشتہ سال کے مارچ کو ہونے نہیں دیا۔ جس کے نتیجے میں ڈ بلیو.ڈی.ایف نے اپنا علیحدہ ”عورت آزادی کانفرنس“ کا انعقاد کیا۔ باوجود کہ 2019 ء میں عورت آزادی مارچ کا آغاز ڈبلیو.ڈی.ایف، بی.ایس.او، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے کیا۔ مگر اس سال ان حالات کی وجہ سے سب نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور مسنگ پرسنز کیمپ میں عوام کی اکثریت نے بلوچ خواتین سے نہ صرف اظہار یکجہتی کیا۔ ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کے عورت آزادی کانفرنس والوں نے ایک چھوٹا سا عورت آزادی مارچ کر کے اپنے کانفرنس کا آغاز بھی جبری گمشدہ افراد کے خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر کیا اور انکو یکجہتی کے پھول بھی پیش کئے۔ تاکہ جو خفیہ ہاتھ مارچ کو سبوتاژ کرنے میں لگے ہیں، وہ ناکامی سے دوچار ہوں۔
اِسی طرح، ہم نے دیکھا کہ عورت آزادی مارچ سکھر والوں کو سکھر سندھ میں مذہبی جماعتوں کے جانب سے دھمکی آمیز بیانات موصول ہوئے، جسکے نتیجے میں سندھ بھر سے ترقی پسند تنظیمیں ڈبلیو ڈی ایف اور ویف کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے سکھر مارچ میں شرکت کرنے گئیں۔ باوجود یہ کی سکھر مارچ کامیاب ہوگیا، مگر اسکی قیمت ہم نے حالیہ ڈاکٹر عرفانہ ملاح پر مذہبی جماعتوں کے جانب سے توہین رسالت کا الزام کے شکل میں لگتے دیکھا، جس پر ڈاکٹر صاحبہ کو اپنا وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا، تب کہیں جاکر یہ مسلہ ٹھنڈا ہوا۔
اسی طرح پشاور میں مذہبی انتہا پسند قوتوں کی طرف سے دباؤ کی وجہ سے پچھلی بار عورت آزادی کانفرنس کے بجائے”پختونخوا خواتین امن کانفرنس “ کی گئی۔ یہ کانفرنس پشاور پریس کلب میں ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ نے منعقد کی۔ کانفرنس والے دن،مذہبی جماعتیں خواتین امن کانفرنس کے خلاف اپنا ”مارچ“لے کر عین اُسی وقت پریس کلب کے دروازے پر پہنچ گئیں، جب خواتین امن کانفرنس چل رہی تھی۔
عورت مارچ اور عورت آزادی مارچ کے اثرات اب بھی وقتا فوقتا مارچ کے آرگنائزنگ خواتین تنظیمیں دیکھتی رہتی ہیں، جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ پدر شاہی اور پدر شاہی سے جُڑا ریاستی جبر دراصل بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
عورت آزادی مارچ کے مخالفت کا مثبت پہلو
باوجود یہ کہ سال 2020ء کے عورت آزادی مارچ کی بھرپور مخالفت بھی سامنے آئی مگر ایک بات طے شدہ ہے کہ اس میں دراصل حقیقی کامیابی مارچ کرنے والوں کی ہوئی۔ جس میں سب سے پہلے تو گزشتہ سال کے نسبت اس سال بہت زیادہ لوگو ں نے شرکت کی۔ دوسری بات، بہت سے لوگوں نے بشمول کئی سیاسی جماعتوں نے اسکو کھل کر سپورٹ کیا۔ اس سال 2019ء کے نسبت زیادہ لوگو ں نے شرکت کی جس سے یہ واضح پیغام مل رہا تھا کہ یہ تحریک دراصل پاکستان کے عوام کے دل کی آواز ہے۔ اور اُس پچاس فیصد خواتین کے ترجمانی کرتا ہے جو کھیتوں، کھلیانوں، دفاتر، گھروں میں، سیاست میں، انتطامی امور میں، اپنے قومی اور طبقاتی سوال پر یک آواز ہو کر منظم ہو رہی ہے۔ یہ وہ خواتین ہیں جو ایک دن پرُ امن مارچ کر کے اپنے پلے کارڈز پر اپنے ہونے کا سوال پوچھتی ہیں۔ جو اپنے اور اپنے قوم کے اوپر ہونے والی مظالم کا حساب مانگتی ہیں، جو اپنے محنت کی برابر اجرت مانگتی ہیں، اور ملکیتوں پر اپنا حصہ داری مانگتی ہیں۔ جو سرمایہ داری جاگیرداری، ریاستی، قومی اور صنفی جبر کو رد کرتی ہیں اور ان اداروں اور قوانین کو چیلنج کرتی ہیں جو عورت کے جسم اور شعور کو زخمی کرتے ہیں۔
ورجینیا وولف اپنے ناول (اے روم آف ونز اون) میں لکھتی ہیں کہ ”عورتوں کی آزادی کی کہانی کی نسبت مردوں کی طرف سے اُسکی مخالفت کی تاریخ بہت دلچسپ ہے، شائد اُس آزادی سے بھی زیادہ ۔“ اِس مارچ کے مخالفت کرنے والے نادان، معاوضہ دار میڈیائی دانشووں کو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مخالفت کے چکر میں وہ اس مارچ کی آواز خود بخود عام عوام تک مفت میں پہنچاتے ہیں، جہاں سرمایہ دار لوگ لاکھوں روپیہ دے کر ان ٹی وی چینلز پر اپنے بیانیے کی ترویج کرتے ہیں۔ اس مارچ کے مخالف وہ سوشل میڈیا دانشور بھی اس مارچ کے ہونے سے پہلے اس پر بات چیت کو چھڑتے ہیں، جس سے لوگو کو اس مارچ کے بارے میں زیادہ آگہی ملتی ہے اور لوگ اس مارچ کے بارے میں ان چند پوسٹرز سے ہٹ کر سوچنا شروع کرتے ہیں، جو اس ملک کے ہر عام آدمی کا بیانیہ ہے کہ آزادی سے مراد ہر جبر سے آزادی ہے۔ ورنہ تو ماضی میں بھی عورت کے نام پر پروگرامز ہوتے تھے، مگر جس چیز نے صدیوں کی غلامی پر ضرب کاری لگایا، وہ ہے لفظ ”آزادی“!۔
کوئی بھی شخص آزادی کا مخالف نہیں ہو سکتا، کم از کم وہ جو خود غلام نہ ہو۔ اِسی لئے مہاتما گاندھی نے درست کہا تھا کہ ”پہلے وہ تمھیں نظر انداز کریں گے، پھر تم پر ہنسیں گے اور آخر میں تمھیں اپنائیں گے“۔ یہی بات ہر شخص پر بھی لاگو ہے اور نظریات پر بھی۔ اس لئے پہلے انہوں نے عورت آزادی مارچ کو نظرانداز کیا، پھر اسکی مخالفت کی اور جلد یا بدیر وہ عورت کے سوال کو ایک حقیقی سوال تسلیم کریں گے!۔
References:
Karl Marx. Economic and Philosophic Manuscripts of 1844. Foreign Languages Publishing House, Moscow, 1959. 101
Virginia Woolf, A Room of One’s Own
2 Responses
It is appropriate time to make a few plans for the future and it is time
to be happy. I have read this put up and if I may just I desire to suggest you few
fascinating issues or suggestions. Maybe you can write subsequent articles relating to
this article. I desire to read even more issues about
it!
You have made some really good points there. I checked on the web to learn more about the issue
and found most individuals will go along with your views on this website.